Showing posts with label شبیه سازی حرام. Show all posts
Showing posts with label شبیه سازی حرام. Show all posts

Saturday, 17 October 2015

عزاداروں کی عزاداری

موضوع بہت سے لوگوں کو نا گوار گزرے گا ۔ ہم پر تنقید کرنے کے مزید دروازے کُھل جائیں گے مگر صرف ٹھنڈے دل و دماغ کے ساتھ ہماری بات کو سنا جائے تو شاید ہماری بات میں حقیقت ضرور نظر آئے گی۔یہاں ہم اس بات کی بھی وضاحت کرنا چاہتے ہیں کہ ہماری یہ تحریر کراچی کی عزاداری کے 
حوالے سے ہے۔

* * * * * * * * *
ہمارے ملک میں شیعوں کا ایک گروہ پایا جاتا ہے کہ جو اپنی شناخت عزادار کے نام سے کرانا پسند کرتا ہے۔ یہ گروہ اپنے آپ کو ایک اور نام سے بھی روشناس کراتا ہے اور وہ لفظ مولائی‘‘ہے ۔ شاید یہ لفظ ’’ مولائی ‘‘ انہوں نے خود ہی ایجاد کیا اور اب اردو لغت ، ارد و زبان کے ایک اور لفظ سے آشنا ہو گئی ہوگی۔ اس کے علاوہ یہ لوگ اپنے لیئے بدبو دار اور جنونی کے القابات بھی پسند کرتے ہیں۔ یہ عزادار گروہ محرم سے پہلے ہی سے کافی مصروف ہو جاتا ہے کیونکہ محرم کے لیئے سیاہ لباس کا بندوبست بھی کرنا ہوتا ہے اس لیئے یہ لوگ محرم سے پہلے بازاروں میں کپڑوں کی دکانوں اور ٹیلرز کی دکانوں پر بھی کثرت سے نظر آتے ہیں۔
محرم کے آغاز کے ساتھ ہی اس گروہ کے حلیے بھی بدل جاتے ہیں ۔اب یہ لوگ سیاہ لباس میں ملبوس نظر آتے ہیں ۔ان کے گریبان کھلے ہوتے ہیں تاکہ’’ علی وارث ‘‘ کا گردن میں لٹکا ہوا لاکٹ زیادہ نمایاں ہو اور زیادہ سے زیادہ لوگ اس لاکٹ کی زیارت کر سکیں۔ اس کے علاوہ ان کے ہاتھوں میں کڑے بھی ہوتے ہیں اور سرخ و سبز رنگ کے دھاگے بھی باندھے ہوئے ہوتے ہیں جس کو کلاوے کا نام دیا جاتا ہے۔ ان میں سے بعض افراد پاؤں میں بیڑیاں بھی ڈالے ہوتے ہیں ۔جب ان سے ان کڑوں اور بیڑیوں کے بارے میں پوچھا جاتا ہے تو ان کا جواب یہ ہوتا ہے کہ ہم امام سجاد علیہ السلام کی تاسی کر رہے ہیں۔ ان کی امام سے اس قدر محبت دیکھ کر کہ یہ لوگ اپنے ہاتھ اور پیروں میں ہتھکڑی اور بیڑی تک پہن لیتے ہیں ہم نے ان کو یہ بھی مشورہ دیا کہ آپ لوگ اگر زیادہ محبت کا اظہار چاہتے ہیں تو سینٹرل جیل میں اپنے آپ کو قید کر لیں تاکہ امام علیہ السلام کی مکمل تاسی ہو سکے مگر ہماری اس بات پر ہم کو اپنے بارے میں کافی غلط قسم کے جملے سننے کو ملتے ہیں جن کو ہم تحریر میں بھی نہیں لا سکتے۔ شاید ہم ان کی محبت کا صحیح ادراک نہیں کر سکے ہیں۔
ہم کو تو اب ایسی خواتین عزادار بہنیں بھی نظر آنے لگی ہیں کہ جو بی بی زینب سلام اللہ علیہ کی بے پردگی پر اس قدر رنجیدہ ہیں کہ انہوں نے یہ عقیدہ بنا لیا ہے کہ کیونکہ بی بی کا پردہ باقی نہیں رہا اس لیئے ہم کون ہوتی ہیں کہ اپنا پردہ قائم رکھیں۔یہ ہم کوئی اپنی جانب سے گھڑی ہوئی بات نہیں کر رہے ہیں بلکہ یہ ہمارے ہی معاشرے کی عزادار خواتین کا جملہ ہے
۔یہ عزادار لوگ محرم کے دوران سیاہ لباس ہی میں نظر آتے ہیں ۔ مگر آپ کو یہ لوگ صرف ایک جگہ پر سفید کپڑوں میں نظر آئیں گے کہ جب یہ لوگ زنجیر زنی یا قمہ زنی کرتے ہیں کیونکہ سیاہ لباس میں ان کی پیٹھ کا خون واضح نہیں ہوتا اس لیئے اس موقع پر سفید لباس زیادہ موزوں رہتا ہے تاکہ ہر شخص کے علم میں یہ بات آجائے کہ زنجیر زنی کی گئی ہے اور ہو سکتا ہے کہ یہ ہماری کم علمی ہو اور شاید زنجیر زنی کے بعد سفید کپڑے پہننے کا زیادہ اجر وثواب ملتاہو۔بہر حال ہم نے کبھی کسی عزادار سے اس سلسلے میں تفصیلات جاننے کی کوشش نہیں کی ورنہ شاید جو چھریاں وہ اپنی پیٹھ پر مار رہے ہوتے ہیں وہ ہمارے سر پر مار دی جاتیں۔
محرم کے دوران یہ لوگ اکثر گاڑیوں میں بلند آواز سے نوحوں کی سی ڈیز بجاتے نظر آتے ہیں۔ یہاں ان کو وہ نوحے زیادہ پسند ہوتے ہیں کہ جس میں زیادہ شور ہو اور جس میں جھنکار بھی تیز ہو۔گلی ، محلوں اور سڑکوں پر اکثر ان عزاداروں کی گاڑیوں سے تیز نوحوں کی آواز سنائی دے رہی ہوتی ہے اورشاید ان کی اس تبلیغ حسینی کی وجہ سے لوگوں کی کافی بڑی تعداد دائرہِ تشیعُ میں داخل ہو چکی ہو گی جس کا ابھی مکمل ڈیٹا جمع کرنا باقی ہے۔
عزاداری کے جلوسوں میں بھی یہ عزادار کافی فعال نظر آتے ہیں ۔ اور کیوں کہ یہ جانتے ہیں کہ عزاداری ،مقصد امام حسین علیہ السلام کے حصول کا ایک اہم ذریعہ ہے اسی لیئے یہ لوگ حصولِ مقصد امام میں سبقت لے جانے کے لیئے دوسری انجمنوں سے جھگڑا کرنے سے بھی نہیں کتراتے۔کیونکہ یہ جانتے ہیں کہ جو انجمن بھی جلوس میں آگے نکل جائے گی وہ امام حسین علیہ السلام کی جانب سے زیادہ فضیلت اور مراتب کی حقدار ہوگی۔
عزاداری میں ہونے والی شبِ داریوں میں یہ عزادار جوق در جوق شریک ہوکر رات بھر عزاداری برپا کرتے ہیں۔یہ شب داریاں ایام عزا کے دوران ہر شب اتوار کسی نا کسی مرکزی امام بارگاہ میں منعقد ہو رہی ہوتی ہے۔ شب داری کے دوران یہ عزادار امام بارگاہ کے اطراف میں ٹولیوں کی شکل میں گھومتے نظر آتے ہیں۔امام بارگاہ کے اطراف میں موجود وہ چھوٹی دکانیں جن پر پان و سگریٹ دستیاب ہوتے ہیں عزداروں کی خدمت کے لیئے تقریبا شب بھر ہی کھلتی ہیں کیونکہ عزادار شب بھر جاگنے اور نیند بھگانے کے لیئے پان سگریٹ کا بھی بے دریغ استعمال کرتے ہیں اور ان کی خریداری میں روپیوں کا بے دریغ استعمال کرتے ہیں ۔کیونکہ یہ خرچ ہونے والی رقم بھی امام حسین علیہ السلام کے مشن کی تکمیل کا حصہ بن جاتی ہے۔شبِ داری میں جب ان عزداروں کا کوئی من پسند نوحہ خوان نوحہ پڑھنے آجاتا ہے تو یہ لوگ امام بارگاہ میں بھی تشریف لے جاتے ہیں اور اس نوحہ خوان کی واپسی کی ساتھ ان کی بھی امام بارگاہ کے داخلی راستے سے واپسی ہو جاتی ہے اور کسی اور من پسند نوحہ خوان کا انتظار بھی شروع ہو جاتا ہے۔اس کے علاوہ کچھ نو جوان عزادار امام حسین علیہ السلام کے درسِ محبت کو بھی پھیلاتے نظر آتے ہیں -- یہاں ہم اپنی بات کی مزید وضاحت نہیں کریں گے کیونکہ سمجھدار لوگ ہمارے ادھورے جملے سے بھی بات سمجھ جائیں گے)
عزاداروں کی عزاداری کے حوالے سے ہم ایک اہم بات کا ذکر بھول ہی گئے تھے کہ عزاداروں کی یہ عزاداری اب ’’میچ میکنگ‘‘ کا بھی ایک اہم ذریعہ بن گئی ہے۔ اس سلسلہ میں ہماری خواتین عزاداروں کا بہت اہم حصہ ہے۔ اس عزاداری کے ذریعے اب شادی کے لیئے باقاعدہ رشتے بھی تلاش کیئے جاتے ہیں ۔ وہ خواتین کے جو اپنے بھائی یا بیٹوں کی شادی کے لیئے کسی لڑکی کی تلاش میں ہوتی ہیں ان کے لیئے یہ عزاداری بہت اہمیت کی حامل ہوتی ہے وہ مجالس اور جلوسوں میں شامل ہو کر اپنے مطلوبہ اہداف حاصل کر لیتی ہیں ، ہم کو نہیں معلوم یہ سب عزاداری کی کس منطق کے مطابق کیا جاتا ہے شاید اگر ان خواتین سے اس بارے میں کوئی وضاحت مانگیں تو وہ یہ بھی کہہ سکتی ہیں کہ یہ سب ہم امام حسین علیہ السلام کی تاسی میں کر رہے ہیں کیونکہ امام نے تو کربلا میں اپنی
بیٹی اور بھتیجے کی شادی کی تو ہم اسی کی یاد منا رہے ہیں۔
* * * * * * * * *


ہماری یہ تحریر ان عزاداروں کے متعلق ہے کہ جن کی اکثریت ہے اور یہی عزادار اور ان کی عزاداری آج شیعت کی پہچان بنی ہوئی ہے۔ ہم خود اپنے آپ کو عزادار سمجھتے ہیں اور ایسے عزاداروں کو سلام پیش کرتے ہیں جو عقل و شعور اور معرفت کے ذریعے عزاداری کرتے ہیں مگر بد قسمتی سے عزاداری کا وہ چہرہ شاید قلتِ تعداد کی وجہ سے پسِ پشت چلا جاتا ہے

بشکریه  سید علی احمد برادر

روضه حوانی,نوحه اور ماتم کے متعلق آیت الله برقعی رضوی کا فتوی

آیت اللہ سید  ابو الفضل  ابن رضا برقعی رضوی  قمی کا روضه خوانی, مدح قصیدہ اور نوحہ سے متعلق اہم تحریر

.........,....................
وضاحت: اس تحریر سے بے شک اختلاف رکھیں,کیونکه اختلاف رائے آپ کا حق هے اور رائے دینا برقعی مرحوم جیسے مجتھد صاحب رائے کس حق, لیکن اختلاف دلایل کے ساتھ نه که سب و شتم اور غلاظت گوئی سے
.................................



"خدا لعنت کرے  ایسے شخص پر که مدّاحی و تعریف و تمجید و اظهار ارادت و ...... کے نام پر ہر  قسم کے خرافت  اور هر ایک باطل کو  مسلمین و پیروان قرآن میں  رواج دیتے ہیں.معلوم ہونا چاہیے کہ اسلام دین مدّاحی و نوحه خوانی  غیرمنطقی کاموں کا دین نہیں اور رسول خدا(ص) سے اس قسم کے کاموں کی  نهی فرمایا ہے. چنانچہ فرمایا:

 «اُحثُوا في وُجوه المَدّاحينَ التُّراب»
 «  مدّاحان(تعریف کرنے والے) کے چہرے(منہ میں) پر خاک ڈالو »وسائل الشیعه، ج12، ص 132، حدیث اوّل.

اور   نوحه خوانی کے بارے میں فرمایا: 

«اَلنِّياحَةُ مِن عَمَلِ الجاهِليّة»
 «نوحه خوانی [عهد] جاهلیت کے کاموں میں سے ہے»من لایحضره الفقیه، ج4 ص 376 ـ وسائل الشیعه، ج2، ص915 
اور 
«نَهي رسولُ الله (ص) عَنِ الرَّنَّةِ عِندَ المصيبة ونَهی عَنِ النِّياحَة و الإستماعِ إلَيها»
 « رسول خدا(ص) سے به وقت مصيبت  فریاد كرنے ،اور نوحه خواني سے  اور اسے سننے   سے نهی(منع) فرمایا»وسائل الشّیعه، ج2 ص 915 و ج12، ص 91 - مسند زید (ص 175)  پر نیز   حضرت علی(ع) سے مروی ہے که «نَهَی النَّبِیُّ (ص) عَنِ النَّوحِ» « پیامبر(ص) نے نوحه خوانی سے منع فرمایا».       

 اورجس وقت جناب جعفر بن أبی‌طالب ـ رضوانُ الله عليه ـ شہید ہوگئے تو  حضرت فاطمه(ع) سے رسول اللہ نے فرمایا:

 «لاتَدعی بِذُلٍّ و لاثُکلٍ ولاحزنٍ» « کسی کی موت پر اور جنگ میں کسی کی شہادت پر غم و واویلا نہ کرنا ۔۔۔//۔۔واذلّاه و واويلاه و واحزناه مت کہو//»  وسائل الشیعه، ج2 ص 915 و ج12، ص 91  

اور «إنَّ رسولَ الله(ص) قال لِفاطمةَ(ع) اذا أنَا مِتُّ فَلاتَخمِشی عَلَیَّ وَجهاً و لاتَرخي عَلَیَّ شَعراً و لاتُنادِي بِالوَيل و لاتُقيمنّ عَلَيّ نائِحَةً»
 «رسول خدا(ص) نے حضرت فاطمه(ع) سے فرمایا کہ بیٹی!جب میں انتقال کر جاؤں تو اس وقت تم میری وفات پر اپنا منہ نہ پیٹنا اور اپنے بال نہ کھولنا اور واویلا نہ کرنا(مجھ پر نوحہ نہ کرنا) اور نوحہ کرنے والیوں کو نہ بلانا۔»وسائل الشیعه، ج2، ص 916 – 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(نوٹ:جلاء العیون جلد اول صفحہ 66 پر رسول خدا نے سیدہ النساء کو جو وصیت کی تھی وہ یہ ہے:

"اے فاطمہ واضح ہو کہ پیغمبر کیلے گریباں چاک نہ کرنا چاہیے۔اور بال نہ نوچنے چاہیں۔اور واویلا نہ کرنا لیکن وہ کہنا جو تیرے باپ نے اپنے بیٹے ابراہیم کے مرنے پر کہا کہ 'آنکھیں روتی ہیں اور دل غمگین ہے' اور میں نہیں کہتا کہ جو موجب غضب پروردگار ہو اور اے ابراہیم میں تجھ پر اندوہناک ہوں۔

اور مزید یہ بھی آتا ہے:
"پس تم لوگ فوج در فوج گھر میں آنا اور مجھ پر صلوۃ بھیجنا اور سلام کہنا،اور مجھ کو نالہ و فریاد اور گریہ و زاری سے آزار نہ دینا(یعنی یہ کام نہ کرنا)"۔
(جلاء العیون جلد اول صفحہ 77)

اور اس کے علاوہ حضرت علی ع نے فاطمۃ الزھراء سے جعفر بن ابی طالب کے موت پر کہا:
لا تدعی بویل ولا تکل ولا تحزن ولا حرب وما قلت فیہ فقد صدقت۔
کسی کی موت پر اور کسی کے دوران جنگ شہید ہوجانے پر غم کھاتے ہوئے واویلا کے ساتھ ماتم نہ کرنا اور جو کچھ اس کے بارے میں میں نے کہا ہے وہ سچ ہے۔ 

اس کے علاوہ حضرت خدیضہ ع کو بھی رسول اللہ نے صبر کی تلقین کی کہ بس آنکھیں اشک بار ہیں  اور دل غمگین ہے' اور میں نہیں کہتا کہ جو موجب غضب پروردگار ہو اور اے ابراہیم میں تجھ پر اندوہناک ہوں۔،،،!

اس کے علاوہ امیرالمومنین ع نے نہج البلاغہ میں رسول اللہ کی وفات کو سب سے بڑی مصیبت قرار دیا لیکن اس پر بھی جزع و فزع نہیں کیا کیونکہ رسول ص نے منع فرمایا تھا۔

اور سیدہ نساء اہل الجنہ،فاطمۃ بنت محمد ص کی وفات پر بھی علی ع اشک بار تھے لیکن غیر شرعی کاموں سے پر  ہیز کیا۔
اللہ ہمیں ان بزرگوار دین کے سچے محافظین کی سیرت پر عمل کرنے کی توفیق دے۔والسلام علی من اتبع الھدی

(ایڈمن)
----------------------------------------------------------------------------

حضرت سیّد الشهداء(ع)  نے نیز  اپنے نانا کی سنت کی  پیروی کرتے ہوئے  حضرت زنیب سے فرمایا: 
«يا اُخَيَّة اِنيّ اَقسَمتُ عَلَيكِ فَاَبِرّى قَسَمي لاتَشِقّی عَلَيَّ جَيباً وَ لاتَخمِشي عَلَيَّ وَجهاً و لاتَدعى عَلَيَّ بِالوَيل و الثُّبُور اذا أنَا هَلَكتُ»
 «پیاری بہن!میں تجھے قسم دلاتا ہوں ۔میری قسم کی لاج رکھتے ہوئے اسے پورا کر دکھانا۔میرے مرنے پر اپنا گریباں نہ پھاڑنا اور میری موت پر اپنے چہرے کو نہ خراشنا اور نہ ہی (ہائے)ہلاکت و (ہائے) بربادی کے الفاظ نہ بولنا » (الارشاد، شیخ مفید، ج2، ص97).
اور فرمایا:
 «لَعَنَ اللهُ الخامِشَةَ وَجهَها و الشّاقَّةَ جَيبَها وَ الدّاعِيَةَ بِالوَيلِ و الثُّبور» 
«خدا لعنت کرے اس عورت پر جو   که [ بوقت مصیبت] چهرة   کو نوچے   اور گریبان پھاڑے اور فریاد و فغان(ہائے ہلاکت اور ہائے بربادی کے الفاظ بولے )کرے  »مسکّن الفواد، زین الدین العاملی، ص 108 – مستدرک الوسائل، ج1، ص144

 اور «لَيسَ مِنّا مَن حَلَقَ و لا مَن سَلَقَ و لا مَن خَرَقَ و لا مَن دعا بِالوَيلِ و الثُّبور» 
«از ما نیست آن‌که موی خویش بکند (یا بتراشد) و صدای خود را بلند کند و گریبان بدرَد و فریاد وفغانِ واویلاه و واثبورا  کہے ».مسند الامام زید، ص 175 ـ اس حدیث کو شهید ثانی نے اس طرح بیان کیا: «لَيسَ مِنّا مَن ضَرَبَ الخُدودَ وَ شَقَّ الجُيوب» «وہ ہم میں سے نہیں جو بوقت مصیبت گالوں پر مارے اور گریباں پھاڑے». (مسکّن الفؤاد، ص 108).  

 اور فرمایا «اِنّما نُهِيتُ عَنِ النَّوحِ عَن صَوتَينِ أحمَقَينِ فاجِرَين صَوتٍ عِندَ نغم لَعِبٍ و لَهوٍ و مَزامير شيطانٍ و صَوتٍ عِندَ مُصيبَةٍ خَمشِ وُجوهٍ وَ شَقِّ حُيُوبٍ و رَنَّةِ شيطانٍ»
 « مجھے منع کیا گیا ہے   نوحه خوانی سے ،   دو أحمق فاجر  آوازوں سے جن میں سے ایک  به وقت لَهو و لعب و مزمارهای شیطانی  کی آواز ہے اور دوسری آوازو   به وقت مصیبت   چہرہ یا منہ نوچنا  و گریباں پھاڑنا اور  شیطانی فریاد‌یں کرنا»مستدرك الوسائل  ج1، ص 144 و 145

اور فرمایا :«أربَعٌ فی أمَّتی مِن أمرِ الجاهليّة لايَترُکونَهُنَّ : الفَخرُ فی الأحسابِ و الطَّعنُ فی الأنساب و الإستسقاءُ بِالنّجوم و النِّياحَةُ»
 «چهار چیزیں جو کہ امور جاهلیّت  میں سے ہیں  میری امت ترک نہیں کریں گے: حسب و نسب پر فخر کرنا، طعنه کرنا نسب میں ،اور ستاروں سے بارش طلب کرنا اور نوحه خوانی »المصنّف، ج3، ص 559 ـ وسائل الشیعه، ج12 ص91 و مستدرک الوسائل، ج1 ص 143

پیامبر(ص)  نے بوقت  شهادت   جناب حمزه(ع) جو آپ کے چچا تھے لوگوں کو  نوحه خوانی منع فرمایا»المصنّف، ج،3 ص، 561 .  

اور فرمایا: «صَوتانِ ملعونان يَبغُضُهُمَا اللهُ: اعوالٌ عِندَ مُصيبةٍ و صوتٌ عند نغمةٍ يَعنی النَّوحَ و الغَناءَ» «دو آوازیں  مورد و موجب لعنت ہیں  جنہیں خدا پسند نہیں کرتا، ناله‌ و فریاد کرنا بوقت مصیبت اور   غناکی آواز  کی آواز یعنی نوحه خوانی اور آواز غنا کی آواز»مستدرک الوسائل، ج1، ص 144

 و اسی طرح فرمایاد: «ضَربُ المُسلِمِ بِيَدِهِ عَلی فَخِذِهِ عِندَ المُصيبَةِ إحباطٌ لِأجرِه» «هنگام مصیبت کے وقت کوئی مسلمان اپنے رانِ  پر ہاتھ پیٹے ، اس کا اجر ضائع ہوجاتا ہے»فروع کافی، ج1 ص 224 ـ چنانچہ أمیرالمؤمین نے نیز فرمایا : «مَن ضَرَبَ يَدَهُ عَلی فَخِذِهِ عِندَ مُصيبَتِهِ حَبِطَ أجرُهُ (عَمَلُهُ) = جس نے بوقت مصیبت اپنے رانوں پر ہاتھ مارے ۔تو اس کے اعمال(اجر) ضائع ہوگئے» (نهج البلاغه، حکمت 144)

اسی لئے حضرت باقر(ع) نے فرمایا:
 «أشَدُّ الجَزَعِ الصُّراخُ بِالوَيل وَ العَويل و لَطمُ الوَجه و الصَّدر وَ جَزُّ ا لشَّعرِ عَنِ النَّواصی و مَن أقامَ النّواحَةَ فَقَد تَرَكَ الصَّبرَ و أخَذَ في غَيرِطريقِه» 
« انتہائے جزع ویل عویل کی پکار کرنا ہے،اور منہ پر طمانچہ مارنا ہے،سینہ زنی کرنا اور بال نوچنا اور جس نے نوحہ خوانی و ماتم کیا اس نے صبر کو چھوڑ دیا اور غیر شرعی کام کیا۔».فروع کافی، ج1، ص 222 

والسلام علی من اتبع الھدی
     از خادم شریعت مطھرہ  آیت الله سید ابوالفضل ابن الرضا برقعی قمی

شبیه سازی حرام هے,آیت الله میرزا محمد بن سلیمان تنکابنی


شبیہ سازی پر نامور شیعہ عالم 'مجتھد مرزا تنکابنی' وغیرہ کا فتوی یہ تھا کہ شبیہ سازی(شبیہ بنانا) حرام ھے، آیت اللہ میرزا تنکابنی جن کی پیدائش سن 1235 هجری هے،ملاحظہ کیجئے ان کی کتاب قصص العلما جہاں آپ لکھتے ھیں:





شبیہ سازی کرنا حرام ہے : علامہ میرزا محمد تنکابنی کا فتویٰ و تحقیق اور سابقہ علماء کی آراء

علامہ میرزا محمد تنکابنی صاحب قصص العلماء فرماتے ہیں

شبیہ سازی صفوی دور کی اختراع ہے اور چونکہ مذہب تشیع ایرانی علاقوں میں سلاطین صفوی نے بروز شمیشیر پھیلایا اور حضرت السید شھداء‌کے مصائب کے بیان کے لئے ذاکرین بلائے جاتے تھے اور لوگ گریہ نہیں کرتے تھے کیونکہ وہ اس مذہب میں راسخ الاعتقاد نہیں تھے ، لہذا شبیہ سازی کی اختراع ہوئی کہ شائد امام حسین ع کے مصائب کی تصویر کشی سے ان کے دل بھر آئیں اور ان میں رقت قلب پیدا ہو۔ لفظ تعبیہ کے معنی اختراع ہی ہیں اور سب جانتے ہیں کہ سابق ادوار میں اس شبیہ سازی کا وجود نہ تھا اور علماء اس کو جائز نہیں مانتے تھے بلکہ اکثر اس کو حرام قرار دیتے تھے اور حرام قرار دینے والوں میں سے جیلیل القدر فقیہ شیخ جعفر نجفی اور بعض نے توقف اختیار کیا ہے جیسے حجتہ الاسلام نے اپنی سوال و جواب کی کتاب میں اس مسئلہ پر خاموشی ظاھر کی ہے اور دوسرے بھی اس کے متعلق فتویٰ دینے میں توقف کرتے تھے ۔ میرا خیال ہے کہ یہ متوفقین یعنی توقف کرنے والے ، دراصل مانعین یعنی منع کرنے والے ہی ہیں ۔ فقہ میں سے شاذو نادر نے تعبیہ و شبیہ سازی کو تجویز کیا ہے ۔ مختصر یہ کہ میں ( علامہ میرزا محمد تنکابنی) تعبیہ و تشبیہ کو حرام قرار دیتا ہوں ، اس لئے کہ تعبیہ اگر ہے بھی تو سنت عبادت ہے اور اصل عبادات میں شارع مقدس کی طرف سے اس پر کوئی دلیل نہیں ملتی کیونکہ عبادت توقیفی اور لازمی ہے اور سب یہ تسلیم کرتے ہیں اور جو اس کو جائز قرار دیتے ہیں ، ان کے پاس سوائے سیرت صفوی کے کوئی دلیل نہیں ہے اور سیرت کو بالکل مسخ کر دیا گیا ہے اور یہ بھی یقینی ہے کہ رسول اللہ ع و آئمہ اھل بیت ع کے زمانے میں اس کا کوئی وجود نہ تھا ، اس لئے اس سیرت کی پیروی نہیں ہو سکتی ۔

قصص العلماء // علامہ محمد تنکابنی رح // ص 45