Showing posts with label عزاداری. Show all posts
Showing posts with label عزاداری. Show all posts

Sunday, 18 October 2015

تابوت شبیه اور آغا علامه سید علی شرف الدین موسوی



تابوت نکالنا

"یہاں عزاداری کا مظہر ایک تابوت کے پیچھے چند لوگوں کا رونا اور پیٹنا ہے۔ان کا کہنا کہ ہم اس عمل سے یہ بتانا چاہتے ہیں کہ یہ ہمارے وقت کے امام مظلوم کا تابوت ہے اور ہم اس کی مصیبت میں رو پیٹ رہے ہیں۔دنیا کا کوئی بھی عاقل باشعور انسان خاص طور پر غیر مسلم یہ نہیں سمجھے گا کہ اس جنازے کے پیچھے جانے والے امام حسین ع کی مصیبت منا رہے ہیں۔کیونکہ ہر شخص جانتا ہے کہ واقعہ کربلا آج سے تقریبا 1400 سال پہلے وجود میں آیا ہے تو پھر آج اس دور میں کسی امام کا جنازہ اٹھایا جا رہا ہے۔"

صفحہ 63 کتاب عقائد و رسومات شیعہ،
علامہ آغا علی شرف الدین بلتستانی حفظہ اللہ

ذوالجناح اور آغا سید علی شرف الدین موسوی کا نظریه


ذوالجناح

عزادری امام حسین عہ میں شبیہ سازی کا ایک کردار امام حسین عہ کی سواری ہی۔ جو کہ امام حسین عہ کی شہادت کے بعد زین خون سے آلودہ ہو کر خیام کی طرف آئ، اہل حرم خیمے سے نکل آئے اور ایک کہرام جیسی مصیبت برپا ہوئ، اس سواری کی شبیہ بنا کر جلوس عزا میں کب لائ گئ اس کی کوئ دقیق تاریخ معلوم نہیں۔ لیکن یہ معلوم ہے کہ خود جلوس عزا آل بویہ کی حکومت میں ناکالا گیا ۔پوری دنیا میں جہاں جہاں اس گھوڑے کی شبیہ نکلتی ہے وہاں اسے چند گھنٹوں کے لیے استعمال میں رکھا جاتا ہے، لیکن بر صغیر کے عزادروں کو اس شبیہ سے اتنا لگاو ہے یا یہ ان کے حیوان پرست ہماسائیوں کی صحبت کا اثر ہے، کہ انھوں نے اسے اتنا مقام و اعزاز دیا جو کسی عالم و عابد کو بھی حاصل نہیں ہوا۔اس کے لئے املاک، جائداد،خادم وغیرہ وقف کرنا اپنی ایک جگہ پر ایک موضوع ہے،اس سے حاجتیں مانگنا اس وقت کا اہم موضوع ہے، اسی طرح اس کے بت بنا کر امام بارگاہوں اور مسجدوں میں رکھنا ایک نیا موضوع ہے۔ اس گھوڑے کو آج کل مولا بھی کھتے ہیں۔لیکن پہلے ذوالجنح کے نام سے پکارتے تھے،یعنی “ پروں والا گھوڑا“ اس کو پروں والا کھنے کی دلیل میں وہ روایت پیش کی جاتی ہے جو صحیح بخاری میں موجود ہیں، وہ کچھھ یوں ہے کہ ام المومنین حضرت عائشہ نے اپنے کمرے میں ایک پروں والے گھوڑے کی تصویر آویزاں کی ، جب ان سے پیغمبر اکرم صہ نے اس بارے میں استفسار کیا تو انہوں نے جواب دیا یہ حضرت سلیمان عہ کے گھوڑے کی تصویر ہے جس پر آپ صہ خاموش ہو گئے۔آپ صہ کی خاموشی اس بات کی دلیل ہے کہ یہ عمل غلط نہیں تھا۔ ماتم داروں کو اپنے اس عمل کی دلیل کے لیئے اس رویت کو پیش کرتے سن کر ہمیں حیرانگی ہوئ کہ ویسے تو حضرت عائشہ کا نام آتے ہی ان کے ماتھے پر بل پڑ جاتے ہیں۔ لیکن اپنے گھوڑے کی دلیل کے لیئے یہ بڑے ذور و شور سے ان کا نام لیتے ہیں تاکہ ان کی گھوڑا پرستی ثابت ہو جائے۔

اس گھوڑے کو پروں والا اس لیے کہتے ہیں کہ بھت تیز رفتار تھا ہاں یہ صفت اہمیت کی حامل ہے کہ میدان جنگ میں ایسا گھوڑا ہونا چاہیے جو دشمن کا پیچھا کر سکے یا اگر خود بھاگنا ہو اور دشمن پیچھے ہو تو ان کی گرفت میں نہ آئے، لیکن جب حر جعفی نے امام حسین عہ کے سامنے گھوڑے کی ایسی تعریف کی تو آپ نے اسے مسترد کیا۔

یہ گھوڑا وفادار ہے، اس لحاظ سے ہمیں اس کا احترام کرنا چاہیے۔اس منطق میں کسی قسم کا وزن نہیں ہے کیونکہ ہر گھوڑا اپنے مالک کا وفادار ہوتا ہے۔ امام حسین عہ جس گھوڑے پر سوار تھے وہ ان کا وفادار تھا اور جس گھوڑے پر قاتلان امام عہ سوار تھے وہ ان کے وفادار تھے۔
اس گھوڑے میں ایک خاص صفت پائ جاتی ہے جس کی وجہ سے اس کی اتنی قدر ومنزلت ہے ۔اس کے لیئے لاکھوں کی جائدادیں وقف کی جاتی ہیں اس کے سامنے نذریں پیش کی جاتی ہیں۔ وہ صفت یہ ہے کہ اس نے لوگوں کی نظریں امام حسین عہ سے موڑ کر اپنی طرف جذب کر لی ہیں۔اگر مغرب والوں کو اس کی اہمیت کا پتا چلتا تو وہ بھی اس کی حمایت میں مہم چلاتے۔

اس گھوڑے کی ایک صفت گس کی طرف شاید ماتم داروں نے توجہ نہیں کی کہ یہ ایک حیوان ہے۔اس پر شقی و سعید دونوں گروہ سوار ہوتے ہیں،ہاں جس گھوڑے پر مجاہدین دین و شریت کے دفاع کے لیئے سوار ہوتے ہیں وہ گھوڑا ان ماتم داروں سے بہتر ہے جو خداوند متعال سے عجز ونیاز کرنے کی بجائے گھوڑے سے سوال کرتے ہیں اور امام حسین عہ کی جگہ اس گھوڑے کو مولا کہتے ہیں۔

بعض اس گھوڑے کی دلیل میں کہتے ہیں کہ سورہ عادیات میں خداوند عالم نے گھوڑے کی قسم کھائی ہے، اور خدا جس چیز کی قسم کھائے وہ محترم ہوتی ہے لہذا اس کا احترام کرنے میں کوئ قباحت نہیں ہے۔ یہ منطق بھی بنیادی طور پر غلط ہے کیوں کہ خدا نے ہر قسم کے گھوڑے کی قسم نہیں کھائ بلکہ اس گھوڑے کی قسم کھائ ہے کہ جس پر میدان جنگ میں اہل حق سوار ہوتے ہیں۔وہ گھوڑا کیسے محترم ہو سکتا ہے جس نے میدان جنگ میں شرکت نہ کی ہو بلکہ اس کے اوپر فاسق و فاجر انسان اپنے کھیل کود یا ظلم و بربریت کے حصول کے لیئے سوار ہوئے ہوں یا جیسے بعض علاقوں میں پولو کے کھیل میں استعمال ہونے والے گھوڑے یا ایک عرصے سے عیش و عشرت کی زندگی گزارنے والے گھوڑے کیسے یہ منزلت پا سکتے ہیں۔

دنیا بھر میں اہل تشیع سے تعلق رکھنے والوں سے ہٹ کر ہمارے خطے کے اہل تشیع نے امام حسین عہ کے نام سے منسوب گھوڑے کو ایک مقام و منزلت دی ہے اور اسے خاص نام “ ذوالجناح“ سے نوازا ہے اس کے بارے میں عقل و شریعت، قرآن و سنت اور فقہائے عظام کے رسالہ عملیہ کسی بھی جگہ کوئ سند نہیں ملتی۔اہل بیت عہ سے تعلق کا شرف و افتخار رکھنے والوں کے چہرہ سے اس بد نما داغ کو دھونے کے لئے اس سواری کے بارے میں چند زاویوں سے بحث و گفتگو کرنے کی ضرورت ہے:

١- تاریخی تناظر:- یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے حالت سفر یا جنگ میں سشمن سے نبرد آزمائ کے وقت ایک سواری کا ہونا ضروری ہے اور اسے فریق مخالف کے مقابلے میں ایک طاقت و قدرت سمجھا جاتا تھا اس لئے میدان جنگ میں فوج کو دو حصوں میں تقسیم کیا جاتا تھا
(ا) پیادہ فوج (ب) گھڑ سوار فوج امام حسین عہ گرچہ اپنے والد کے ہمراہ جنگوں میں شریک رہے لیکن میدان کربلا میں چونکہ لشکر باطل کے مقابلے میں انتظام و انصرام کی لجام خود امام حسین عہ کے ہاتھھ تھی اس لیئے امام حسین عہ کے پاس ایک سواری کا ہونا حتمی تھا۔ جب ہم تاریخ و مقاتل کربلا پڑھتے ہیں تو امام حسین عہ کی سواری کے بارے میں مختلف ذکر ملتے ہیں لیکن یہ ایک مسلمہ بات ہے کہ امام حسین عہ کے حالت سفر جس کا آغاز مدینہ سے ہوا اور کربلا پہچنے تک کسی ایک سواری کے نام کا ذکر نہیں ملتا-

الف-- صبح عاشور جب امام حسین عہ اپنے اصحاب کے ساتھھ لشکر اعداء سے خطاب کرنے گئے تو آپ عہ اونٹ پر سوار تھے
ب-- بعض مقاتل میں لکھا ہے کہ امام حسین عہ نیدان کربلا میں جنگ کے لیئے جس گھوڑے پر سوار ہو کر گئے یہ گھوڑا رسول اکرم صہ کی طرف سے آپ عہ کو ملا تھا اور اس کا نام “ مر تجز “ تھا
ج-- جب امام حسین عہ اپنی سواری کی زین پر رہ کر جنگ جاری نہ رکھھ سکے تو آپ عہ زمین پر اتر گئے اور آپ عہ کی سواری “ فرس “ آپ کے خیمے کی ظرف آگئی
د-- جب آپ عہ کے اہلیبیت نے آپ عہ کے گھوڑے کی آواز سنی تو خیمے سے باہر آگئے اور آپ عہ کے گھوڑے جس کا ذکر (لفظ جواد ) آیا ہے کی زین کی طرف دیکھا تو اہلیبیت نے فریاد و فغاں بلند کی-
ہ-- ذوالجناح دو کلموں کا مرکب ہے ایک “ ذو“ دوسرا “ جناح“ ذو عربی میں صاحب کو کھتے ہیں اور جناح پر یا بازو کو کہتے ہیں- سورہ انعام آیت ٣٨ سورہ شوریٰ آیت ٢١٥ سورہ حجر ٨٨ سورہ اسراء ٢٤ میں لفظ موجود ہیں- ذوالجناح یعنی صاحب پر اس کا مطلب یہ ہوا کہ یہ سواری صاحب پر (اڑنے والی) تھی اس نام سے امام حسین عہ کی سواری کا ذکر تاریخی مقاتل میں کہیں نہیں ملتا بلکہ ایسا گھوڑا جا صاحب پر ہو اور اڑنے کی صلاحیت رکھتا ہو کربلا کیا کسی جنگ میں بھی اس سواری کا کوئ ذکر نہیں ملتا-
٢) :- دنیا کے کچھھ علاقوں میں اہل تشیع دسویں محرم کو ایک گھوڑے جس پر تیر کمان اور تلوار نصب کرنے کے علاوہ اس کی زین کو بھی خون آلود کر کے لاتے ہیں تاکہ ان واقعات کی منظر کشی کی جا سکے جو شہادت امام حسین عہ کے بعد پیش آئے لیکن یہ گھوڑا عصر عاشور کے بعد امام حسین عہ سے منسوب نہیں رہتا اور نہ ہی اس کو وہ مقام و منزلت حاصل رہتی بلکہ یہ اپنی عادی شکل میں پلٹ جاتا ہے لیکن ہمارے خطے میب جو مقام و منزلت اس گھوڑے کو دیا گیا ہے وہ ما فوق العقل و شریعت ہے- بعض اس کی سند میں مختلف منطق پیش کرتے ہیں جو اپنی جگہ مکڑی کے جال سے بھی کمزور ہیں- جس طرح چکنے ہاتھھ کو پانی مس نہیں کر سکتا اس طرح ان کی منطق سے اس گھوڑے کو کوئ مقام و منزلت نہیں مل سکتی ہے۔ ان کی منطق کچھھ یوں ہیں:
بعضوں کا کہنا ہے کہ اس کی احترام کی علت امام حسین عہ سے منسوب ہونا ہے- اس سلسلے میں کسی چیز سے منسوب کی حیثیت اور احترام کے بارے میں وضاحت کی ضرورت ہے- نسبت کی دو اقسام ہیں: ١) نسبت حقیقی ٢) نسبت جعلی
١) نسبت حقیقی : حقیقی نسبت وہ ہے کہ واقعی منسوب ہو جیسے واقعی اس کا بیٹا ہے ، واقعی اس کی بیوی یا واقعی اس کا گھر ہےجس میں وہ قیام پذیر ہے ۔اسے نسبت حقیقی کہتے ہیں ،ہر منسوب چیز محترم نہیں ہوتی، جیسے حضرت نوح عہ کا بیٹا اور حضرت نوح عہ کی بیوی ان سے حقیقی نسبت کے باوجود کوئ افتخار نہیں رکھتے۔حضرت لوط عہ کی بیوی بھی محترم نہیں ہیں۔ خدا نے ان لوگوں کو اہل کفر کا نمونہ کہا ہے۔ تاریخ میں کہیں نہیں ملتا کہ آئمہ عہ جس گھر میں قیام پذیر تھے یا امام عہ کے ہاتھھ کا لگا ہوا کوئ درخت یا ان کا کوئ حیوان جس پر امام عہ سوار ہوئے ہوں لوگوں نے اسے وہ عزت وافتخار دیا ہو جو عام انسانوں کو بھی حاصل نہ ہو۔ بلکہ اس کے بر خلاف رسول اکرم صہ نے کعبہ سے منسوب حیوان (اونٹ) پر حاجی کو سوار ہونے کا حکم دیا-

٢) نسبت جعلی و اختیاری :- یعنی جس کا کوئ وجود ہی نہ ہو جیسے آج کل کے گھوڑے جن کو امام حسین عہ کے نام سے منسوب کیا جاتا ہے، کسیکے نسبت دینے سے وہ چیز منسوب نہیں ہو سکتی- خداوند عالم نے قرآن میں دور جاہلیت میں رائج نظام “تبنی“ (یعنی کسی کے بیٹے کو اپنا بیٹا کہنا) کی نسبت کو باطل قرار دیا ہے مندرجہ ذیل آیات میں واضح ہیں:
الف) جن کو تم ماں کہتے ہو وہ واقعی ماں نہیں:- “ اور تمھاری وہ بیویاں جن سے تم ظہار کرتے ہو انھیں تمھاری واقعی ماں نہیں قرار دیا ہے“ (احزاب آیت ٤) “ تاکہ مومنین کے لئے منھھ بولے بیٹوں کی بیویوں سے عقد کرنے میں کوئ حرج نہ رہے“ ( احزاب آیت ٣٧)
ب) جن کو تم منہ بولے بیٹا کہتے ہو وہ تمھاری حقیقی اولاد نہیں ہو سکتے:- اور نہ تمھاری منہ بولی اولاد کو اولاد قرار دیا ہے “ (احزاب ٤) “ ان بچوں کو ان کے باپ کے نام سے پکارو کہ یہی خدا کی نظر میں انصاف سے قریب تر ہے“ (احزاب ٥) “ محمد تمھارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں “ (احزاب ٤٠)

جس بچے کو رسول اکرم صہ نے اپنی طرف نسبت دی تھی وہ بیٹا ان سے منسوب نہ ہو سکا تو ہمارا کسی حیوان کو امام حسین عہ کی طرف نسبت دینے سے وہ کیسے منسوب ہو سکتا ہے - ادیان سماوی میں تمام انبیاء سے لے کر رسول اکرم صہ تک خاص کر اسلام میں کسی مرنے والے حیوان کی نماز جنازہ پڑھنے کی کوئ دلیل ومنطق نہیں ملتی لیکن بلتستان(Baltistan) میں مستقل طور پر امام حسین عہ کے نام گھوڑا پالنے اور امام حسین عہ کے نام پر نکانے کے لیےخاص طور سے پنجاب سے ایک گھوڑا درآمد کیا گیا،معلوم نہیں وہ کس نسل سے تعلق رکھتا ہے جس کا باقاعدہ استقبال ہوا اور گھر گھر لے جاکر اسے نہلایا گیا اور جس پانی سے اس کو نہلایا گیا اس کو جمع کر کے تبرک کے طور پر پیا گیا-

   قرآن کریم میں حضرت سلیمان عہ کے بارے میں آیا ہے کہ وہ خدا کے حکم سے پرندوں کی آواز سنتے اور سمجھتے تھے۔ان کے علاوہ کسی نبی اور آئمہ عہ کے بارے میں کوئ روایت نہیں ملتی - قرآن و سنت اور نہ ہی جدید تحقیق سے یہ بات کشف ہوئ ہے کہ جانور انسان کی بات سنتے اور سمجھتے ہیں جب کہ ہمارے ہاں بعض افراد اس حیوان کے کان میں منہ رکھھ کر اپنی حاجتیں طلب کرتے ہیں اگر یہ مذہب کا مذاق اڑانا نہیں تو اور کیا ہے ؟

آیت الله برقعی روضه خوانی کو حرام سمجھتے تھے



"آیت اللہ برقعی ایک مرتبہ کہیں جا رہے تھے کہ راستے میں آقای فلسفی سے ملاقات ہوئی،چنانچہ آقای فلسفی نے برقعی کو گاڑی میں بٹھایا،گفتگو کے دوران آقای فلسفی نے برقعی سے پوچھا میں نے سنا ہے کہ تم کہتے ہو روضہ خوانی حرام ہے؟

برقعی نے کہا:

میں یقینا کہتا ہوں کہ روضہ خوانی حرام ہے،اس کیلے امداد اور پیسے دینا حرام ہے ۔
آقای فلسفی:
کس لئے حرام ہے؟
برقعی:
میں نے کہا کہ روضہ خوانی میں جو کچھ کہا جاتا ہے وہ سب قرآن کے خلاف ہیں اور حقیقت میں یہ پیغمبر و آئمہ ع سے دشمنی کرنا ہے۔

ﺁﻗﺎﻱ ﻓﻠﺴﻔﻲ : کیا میرے لئے بھی! اور پوچھا کہ کیا ان کے منبر بھی حرام ہیں؟
برقعی:یقینا حرام ہے
فلسفی: کس لئے

میں نے ان کو سمجھانے کیلے کہا کہ آقای فلسفی کیا آپ کو یاد ہے کہ ایک دن عاشورائ کے ایام میں آپ بازار میں منبر پر تھے؟؟

کہا:ہاں بے شک تھا

برقعی: اسی روز میں بازار چلا گیا تھا جب میں نے آپ کی آواز سنی تو میں نے پہچان لیا اور آپ کی گفتگو سننے کیلے کھڑا ہو گیا۔
اور میں نے سنا آپ کہ رہے تھے امام کو ماں کی پیٹ میں غیب کا علم ہوتا ہے ہر چیز جانتا ہے؟

فلسفی: بے شک ایسا ہماری احادیث میں آیا ہے،فلسفی کا مقصد وہ اھادیث جو ﻋﻠﻢ ﺍﻣﺎﻡﻗﺒﻞ ﺍﺯ ﺗﻮﻟﺪ ہے وہی تھا کہ آئمہ نور کے ستونون سے ہر چیز دیکھ رہے ہوتے ہیں۔

میں نے کہا اولا یہ بات قرآن سے متصادم ہے جہاں فرمایا:

»ﻭﺍﻟﻠﻪﺃﺧﺮﺟﻜﻢ ﻣﻦ ﺑﻄﻮﻥﺃﻣﻬﺎﺗﻜﻢ ﻻ ﺗﻌﻠﻤﻮﻥ ﺷﻴﺌﺎ]21 [ = ﺧﺪﺍﻭﻧﺪ ﺷﻤﺎ ﺭﺍ ﺩﺭﺣﺎﻟﻲ ﻛﻪ ﻫﻴﭻ ﭼﻴﺰﻧﻤﻲﺩﺍﻧﺴﺘﻴﺪ، ﺍﺯ ﺷﻜﻢﻣﺎﺩﺭﺍﻧﺘﺎﻥ ﺧﺎﺭﺝ ﺳﺎﺧﺖ «.

ﺛﺎﻧﻴﺎ اسی منبر پہ آُپ نے  ﺻﺤﺮﺍﻱﻛﺮﺑﻼ سے متعلق بتایا کہ جس وقت ﻛﻪ ﺍﻣﺎﻡ ﺣﺴﻴﻦ)ﻉ   ﻛﻮﻓﻪ کی طرف ایک راستہ سے آنا چاہا تو ، ﺣﺮ ان کی راہ میں پہنچا اور  امام کو کوفہ پہنچنے سے روکنے لگے۔ امام نے اس صورتحال کو دیکھ کر دوسرا رستہ اختیار کر لیا جہاں اس راستہ کو چھوڑ کر جہان حر مانع ہوا۔یہان تک کہ ایک جگہ پہنچا جہان امام کے گھورے نے قدم اٹھانا چھوڑ دیا۔امام نے گھورے کو مارا اور بہت کوشش کی لیکن گھورا آگے نہیں برھا،اور حرکت نہیں کی۔امام حیران ہوا کہ آخر یہ گھوڑا آگے حرکت کیوں نہیں کرتا امام کو ایک عربی وہن ملا تو اس کو آواز دی اور اس سے پوچھا :اس زمین کا  ﻧﺎﻡکیا ہے؟ ﻋﺮﺏ  نے ﺟﻮﺍﺏ دیاﻏﺎﺿﺮﻳﻪ )ﻗﺎﺫﺭﻳﻪ (، ﺍﻣﺎﻡﺣﺴﻴﻦ )ﻉ نے  ( ﺳﺆﺍﻝ کیا:ﺩﻳﮕﺮ کیا  نام ہےﺍ؟: ﺷﺎﻃﻲﺀﺍﻟﻔﺮﺍﺕ، ﺍﻣﺎﻡ  نے پوچھا :ﺩﻳﮕﺮ ﭼﻪ ﺍﺳﻤﻲﺩﺍﺭﺩ؟ﮔﻔﺖ: ﻧﻴﻨﻮﺍ، ﺍﻣﺎﻡ ﭘﺮﺳﻴﺪ:ﺩﻳﮕﺮ ﭼﻪ ﺍﺳﻤﻲﺩﺍﺭﺩ؟ﮔﻔﺖ: ﻛﺮﺑﻼ، ﺍﻣﺎﻡ ﺣﺴﻴﻦ)ﻉ ( نے فرمایا: ہاں میں نے اپنے نانا سے سنا ہے کہ فرمایا:
 تمہاری خوابگاہ کربلا ہے۔

اس کے بعد میں نے فلسفی سے پوچھا:
آقای فلسفی یہ ایک امام جن کے بارے میں آپ منبر پر کہ رہے تھے کہ ہر چیز کو جانتا ہے مان کی پیٹ سے ہی،اور قرآن پڑھتا ہے(بغیر معلم کے)،کیسے ایسا ہو گیا کہ امام سے پہلے اس کے گھوڑے کو معلوم ہوا کہ یہ سر زمین کونسی ہے؟اور امام کو بعد میں؟
یہاں تک کہ امام کو ایک عربی سے پوچھنا پرا کہ یہ کونسی جگہ ہے؟

  ﺟﻨﺎﺏ ﻓﻠﺴﻔﻲ  یہ کیسا امام آپ نے گھڑہ لیا ہے ﻛﻪ ﻧﻌﻮﺫ ﺑﺎﻟﻠﻪ اس سے قبل اس کا گھورا مطلع ہوتا ہے؟
کیا یہی حب آئمہ ہے؟

کیا یہی معارف اسلام ہے؟ کیوں آپ احادیث پہ غور و تدبر نہیں کرتے ؟؟"

(سوانح ایام آیت اللہ برقعی قمی)

 یقینا یہ آقای فلسفی ایک بہترین واعط تھا،اور ان جیسا کوئی اہل منبر نہیں تھا جو اپنی بات کو اچھی طرھ پہنچائے۔

Saturday, 17 October 2015

عزاداروں کی عزاداری

موضوع بہت سے لوگوں کو نا گوار گزرے گا ۔ ہم پر تنقید کرنے کے مزید دروازے کُھل جائیں گے مگر صرف ٹھنڈے دل و دماغ کے ساتھ ہماری بات کو سنا جائے تو شاید ہماری بات میں حقیقت ضرور نظر آئے گی۔یہاں ہم اس بات کی بھی وضاحت کرنا چاہتے ہیں کہ ہماری یہ تحریر کراچی کی عزاداری کے 
حوالے سے ہے۔

* * * * * * * * *
ہمارے ملک میں شیعوں کا ایک گروہ پایا جاتا ہے کہ جو اپنی شناخت عزادار کے نام سے کرانا پسند کرتا ہے۔ یہ گروہ اپنے آپ کو ایک اور نام سے بھی روشناس کراتا ہے اور وہ لفظ مولائی‘‘ہے ۔ شاید یہ لفظ ’’ مولائی ‘‘ انہوں نے خود ہی ایجاد کیا اور اب اردو لغت ، ارد و زبان کے ایک اور لفظ سے آشنا ہو گئی ہوگی۔ اس کے علاوہ یہ لوگ اپنے لیئے بدبو دار اور جنونی کے القابات بھی پسند کرتے ہیں۔ یہ عزادار گروہ محرم سے پہلے ہی سے کافی مصروف ہو جاتا ہے کیونکہ محرم کے لیئے سیاہ لباس کا بندوبست بھی کرنا ہوتا ہے اس لیئے یہ لوگ محرم سے پہلے بازاروں میں کپڑوں کی دکانوں اور ٹیلرز کی دکانوں پر بھی کثرت سے نظر آتے ہیں۔
محرم کے آغاز کے ساتھ ہی اس گروہ کے حلیے بھی بدل جاتے ہیں ۔اب یہ لوگ سیاہ لباس میں ملبوس نظر آتے ہیں ۔ان کے گریبان کھلے ہوتے ہیں تاکہ’’ علی وارث ‘‘ کا گردن میں لٹکا ہوا لاکٹ زیادہ نمایاں ہو اور زیادہ سے زیادہ لوگ اس لاکٹ کی زیارت کر سکیں۔ اس کے علاوہ ان کے ہاتھوں میں کڑے بھی ہوتے ہیں اور سرخ و سبز رنگ کے دھاگے بھی باندھے ہوئے ہوتے ہیں جس کو کلاوے کا نام دیا جاتا ہے۔ ان میں سے بعض افراد پاؤں میں بیڑیاں بھی ڈالے ہوتے ہیں ۔جب ان سے ان کڑوں اور بیڑیوں کے بارے میں پوچھا جاتا ہے تو ان کا جواب یہ ہوتا ہے کہ ہم امام سجاد علیہ السلام کی تاسی کر رہے ہیں۔ ان کی امام سے اس قدر محبت دیکھ کر کہ یہ لوگ اپنے ہاتھ اور پیروں میں ہتھکڑی اور بیڑی تک پہن لیتے ہیں ہم نے ان کو یہ بھی مشورہ دیا کہ آپ لوگ اگر زیادہ محبت کا اظہار چاہتے ہیں تو سینٹرل جیل میں اپنے آپ کو قید کر لیں تاکہ امام علیہ السلام کی مکمل تاسی ہو سکے مگر ہماری اس بات پر ہم کو اپنے بارے میں کافی غلط قسم کے جملے سننے کو ملتے ہیں جن کو ہم تحریر میں بھی نہیں لا سکتے۔ شاید ہم ان کی محبت کا صحیح ادراک نہیں کر سکے ہیں۔
ہم کو تو اب ایسی خواتین عزادار بہنیں بھی نظر آنے لگی ہیں کہ جو بی بی زینب سلام اللہ علیہ کی بے پردگی پر اس قدر رنجیدہ ہیں کہ انہوں نے یہ عقیدہ بنا لیا ہے کہ کیونکہ بی بی کا پردہ باقی نہیں رہا اس لیئے ہم کون ہوتی ہیں کہ اپنا پردہ قائم رکھیں۔یہ ہم کوئی اپنی جانب سے گھڑی ہوئی بات نہیں کر رہے ہیں بلکہ یہ ہمارے ہی معاشرے کی عزادار خواتین کا جملہ ہے
۔یہ عزادار لوگ محرم کے دوران سیاہ لباس ہی میں نظر آتے ہیں ۔ مگر آپ کو یہ لوگ صرف ایک جگہ پر سفید کپڑوں میں نظر آئیں گے کہ جب یہ لوگ زنجیر زنی یا قمہ زنی کرتے ہیں کیونکہ سیاہ لباس میں ان کی پیٹھ کا خون واضح نہیں ہوتا اس لیئے اس موقع پر سفید لباس زیادہ موزوں رہتا ہے تاکہ ہر شخص کے علم میں یہ بات آجائے کہ زنجیر زنی کی گئی ہے اور ہو سکتا ہے کہ یہ ہماری کم علمی ہو اور شاید زنجیر زنی کے بعد سفید کپڑے پہننے کا زیادہ اجر وثواب ملتاہو۔بہر حال ہم نے کبھی کسی عزادار سے اس سلسلے میں تفصیلات جاننے کی کوشش نہیں کی ورنہ شاید جو چھریاں وہ اپنی پیٹھ پر مار رہے ہوتے ہیں وہ ہمارے سر پر مار دی جاتیں۔
محرم کے دوران یہ لوگ اکثر گاڑیوں میں بلند آواز سے نوحوں کی سی ڈیز بجاتے نظر آتے ہیں۔ یہاں ان کو وہ نوحے زیادہ پسند ہوتے ہیں کہ جس میں زیادہ شور ہو اور جس میں جھنکار بھی تیز ہو۔گلی ، محلوں اور سڑکوں پر اکثر ان عزاداروں کی گاڑیوں سے تیز نوحوں کی آواز سنائی دے رہی ہوتی ہے اورشاید ان کی اس تبلیغ حسینی کی وجہ سے لوگوں کی کافی بڑی تعداد دائرہِ تشیعُ میں داخل ہو چکی ہو گی جس کا ابھی مکمل ڈیٹا جمع کرنا باقی ہے۔
عزاداری کے جلوسوں میں بھی یہ عزادار کافی فعال نظر آتے ہیں ۔ اور کیوں کہ یہ جانتے ہیں کہ عزاداری ،مقصد امام حسین علیہ السلام کے حصول کا ایک اہم ذریعہ ہے اسی لیئے یہ لوگ حصولِ مقصد امام میں سبقت لے جانے کے لیئے دوسری انجمنوں سے جھگڑا کرنے سے بھی نہیں کتراتے۔کیونکہ یہ جانتے ہیں کہ جو انجمن بھی جلوس میں آگے نکل جائے گی وہ امام حسین علیہ السلام کی جانب سے زیادہ فضیلت اور مراتب کی حقدار ہوگی۔
عزاداری میں ہونے والی شبِ داریوں میں یہ عزادار جوق در جوق شریک ہوکر رات بھر عزاداری برپا کرتے ہیں۔یہ شب داریاں ایام عزا کے دوران ہر شب اتوار کسی نا کسی مرکزی امام بارگاہ میں منعقد ہو رہی ہوتی ہے۔ شب داری کے دوران یہ عزادار امام بارگاہ کے اطراف میں ٹولیوں کی شکل میں گھومتے نظر آتے ہیں۔امام بارگاہ کے اطراف میں موجود وہ چھوٹی دکانیں جن پر پان و سگریٹ دستیاب ہوتے ہیں عزداروں کی خدمت کے لیئے تقریبا شب بھر ہی کھلتی ہیں کیونکہ عزادار شب بھر جاگنے اور نیند بھگانے کے لیئے پان سگریٹ کا بھی بے دریغ استعمال کرتے ہیں اور ان کی خریداری میں روپیوں کا بے دریغ استعمال کرتے ہیں ۔کیونکہ یہ خرچ ہونے والی رقم بھی امام حسین علیہ السلام کے مشن کی تکمیل کا حصہ بن جاتی ہے۔شبِ داری میں جب ان عزداروں کا کوئی من پسند نوحہ خوان نوحہ پڑھنے آجاتا ہے تو یہ لوگ امام بارگاہ میں بھی تشریف لے جاتے ہیں اور اس نوحہ خوان کی واپسی کی ساتھ ان کی بھی امام بارگاہ کے داخلی راستے سے واپسی ہو جاتی ہے اور کسی اور من پسند نوحہ خوان کا انتظار بھی شروع ہو جاتا ہے۔اس کے علاوہ کچھ نو جوان عزادار امام حسین علیہ السلام کے درسِ محبت کو بھی پھیلاتے نظر آتے ہیں -- یہاں ہم اپنی بات کی مزید وضاحت نہیں کریں گے کیونکہ سمجھدار لوگ ہمارے ادھورے جملے سے بھی بات سمجھ جائیں گے)
عزاداروں کی عزاداری کے حوالے سے ہم ایک اہم بات کا ذکر بھول ہی گئے تھے کہ عزاداروں کی یہ عزاداری اب ’’میچ میکنگ‘‘ کا بھی ایک اہم ذریعہ بن گئی ہے۔ اس سلسلہ میں ہماری خواتین عزاداروں کا بہت اہم حصہ ہے۔ اس عزاداری کے ذریعے اب شادی کے لیئے باقاعدہ رشتے بھی تلاش کیئے جاتے ہیں ۔ وہ خواتین کے جو اپنے بھائی یا بیٹوں کی شادی کے لیئے کسی لڑکی کی تلاش میں ہوتی ہیں ان کے لیئے یہ عزاداری بہت اہمیت کی حامل ہوتی ہے وہ مجالس اور جلوسوں میں شامل ہو کر اپنے مطلوبہ اہداف حاصل کر لیتی ہیں ، ہم کو نہیں معلوم یہ سب عزاداری کی کس منطق کے مطابق کیا جاتا ہے شاید اگر ان خواتین سے اس بارے میں کوئی وضاحت مانگیں تو وہ یہ بھی کہہ سکتی ہیں کہ یہ سب ہم امام حسین علیہ السلام کی تاسی میں کر رہے ہیں کیونکہ امام نے تو کربلا میں اپنی
بیٹی اور بھتیجے کی شادی کی تو ہم اسی کی یاد منا رہے ہیں۔
* * * * * * * * *


ہماری یہ تحریر ان عزاداروں کے متعلق ہے کہ جن کی اکثریت ہے اور یہی عزادار اور ان کی عزاداری آج شیعت کی پہچان بنی ہوئی ہے۔ ہم خود اپنے آپ کو عزادار سمجھتے ہیں اور ایسے عزاداروں کو سلام پیش کرتے ہیں جو عقل و شعور اور معرفت کے ذریعے عزاداری کرتے ہیں مگر بد قسمتی سے عزاداری کا وہ چہرہ شاید قلتِ تعداد کی وجہ سے پسِ پشت چلا جاتا ہے

بشکریه  سید علی احمد برادر

روضه حوانی,نوحه اور ماتم کے متعلق آیت الله برقعی رضوی کا فتوی

آیت اللہ سید  ابو الفضل  ابن رضا برقعی رضوی  قمی کا روضه خوانی, مدح قصیدہ اور نوحہ سے متعلق اہم تحریر

.........,....................
وضاحت: اس تحریر سے بے شک اختلاف رکھیں,کیونکه اختلاف رائے آپ کا حق هے اور رائے دینا برقعی مرحوم جیسے مجتھد صاحب رائے کس حق, لیکن اختلاف دلایل کے ساتھ نه که سب و شتم اور غلاظت گوئی سے
.................................



"خدا لعنت کرے  ایسے شخص پر که مدّاحی و تعریف و تمجید و اظهار ارادت و ...... کے نام پر ہر  قسم کے خرافت  اور هر ایک باطل کو  مسلمین و پیروان قرآن میں  رواج دیتے ہیں.معلوم ہونا چاہیے کہ اسلام دین مدّاحی و نوحه خوانی  غیرمنطقی کاموں کا دین نہیں اور رسول خدا(ص) سے اس قسم کے کاموں کی  نهی فرمایا ہے. چنانچہ فرمایا:

 «اُحثُوا في وُجوه المَدّاحينَ التُّراب»
 «  مدّاحان(تعریف کرنے والے) کے چہرے(منہ میں) پر خاک ڈالو »وسائل الشیعه، ج12، ص 132، حدیث اوّل.

اور   نوحه خوانی کے بارے میں فرمایا: 

«اَلنِّياحَةُ مِن عَمَلِ الجاهِليّة»
 «نوحه خوانی [عهد] جاهلیت کے کاموں میں سے ہے»من لایحضره الفقیه، ج4 ص 376 ـ وسائل الشیعه، ج2، ص915 
اور 
«نَهي رسولُ الله (ص) عَنِ الرَّنَّةِ عِندَ المصيبة ونَهی عَنِ النِّياحَة و الإستماعِ إلَيها»
 « رسول خدا(ص) سے به وقت مصيبت  فریاد كرنے ،اور نوحه خواني سے  اور اسے سننے   سے نهی(منع) فرمایا»وسائل الشّیعه، ج2 ص 915 و ج12، ص 91 - مسند زید (ص 175)  پر نیز   حضرت علی(ع) سے مروی ہے که «نَهَی النَّبِیُّ (ص) عَنِ النَّوحِ» « پیامبر(ص) نے نوحه خوانی سے منع فرمایا».       

 اورجس وقت جناب جعفر بن أبی‌طالب ـ رضوانُ الله عليه ـ شہید ہوگئے تو  حضرت فاطمه(ع) سے رسول اللہ نے فرمایا:

 «لاتَدعی بِذُلٍّ و لاثُکلٍ ولاحزنٍ» « کسی کی موت پر اور جنگ میں کسی کی شہادت پر غم و واویلا نہ کرنا ۔۔۔//۔۔واذلّاه و واويلاه و واحزناه مت کہو//»  وسائل الشیعه، ج2 ص 915 و ج12، ص 91  

اور «إنَّ رسولَ الله(ص) قال لِفاطمةَ(ع) اذا أنَا مِتُّ فَلاتَخمِشی عَلَیَّ وَجهاً و لاتَرخي عَلَیَّ شَعراً و لاتُنادِي بِالوَيل و لاتُقيمنّ عَلَيّ نائِحَةً»
 «رسول خدا(ص) نے حضرت فاطمه(ع) سے فرمایا کہ بیٹی!جب میں انتقال کر جاؤں تو اس وقت تم میری وفات پر اپنا منہ نہ پیٹنا اور اپنے بال نہ کھولنا اور واویلا نہ کرنا(مجھ پر نوحہ نہ کرنا) اور نوحہ کرنے والیوں کو نہ بلانا۔»وسائل الشیعه، ج2، ص 916 – 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(نوٹ:جلاء العیون جلد اول صفحہ 66 پر رسول خدا نے سیدہ النساء کو جو وصیت کی تھی وہ یہ ہے:

"اے فاطمہ واضح ہو کہ پیغمبر کیلے گریباں چاک نہ کرنا چاہیے۔اور بال نہ نوچنے چاہیں۔اور واویلا نہ کرنا لیکن وہ کہنا جو تیرے باپ نے اپنے بیٹے ابراہیم کے مرنے پر کہا کہ 'آنکھیں روتی ہیں اور دل غمگین ہے' اور میں نہیں کہتا کہ جو موجب غضب پروردگار ہو اور اے ابراہیم میں تجھ پر اندوہناک ہوں۔

اور مزید یہ بھی آتا ہے:
"پس تم لوگ فوج در فوج گھر میں آنا اور مجھ پر صلوۃ بھیجنا اور سلام کہنا،اور مجھ کو نالہ و فریاد اور گریہ و زاری سے آزار نہ دینا(یعنی یہ کام نہ کرنا)"۔
(جلاء العیون جلد اول صفحہ 77)

اور اس کے علاوہ حضرت علی ع نے فاطمۃ الزھراء سے جعفر بن ابی طالب کے موت پر کہا:
لا تدعی بویل ولا تکل ولا تحزن ولا حرب وما قلت فیہ فقد صدقت۔
کسی کی موت پر اور کسی کے دوران جنگ شہید ہوجانے پر غم کھاتے ہوئے واویلا کے ساتھ ماتم نہ کرنا اور جو کچھ اس کے بارے میں میں نے کہا ہے وہ سچ ہے۔ 

اس کے علاوہ حضرت خدیضہ ع کو بھی رسول اللہ نے صبر کی تلقین کی کہ بس آنکھیں اشک بار ہیں  اور دل غمگین ہے' اور میں نہیں کہتا کہ جو موجب غضب پروردگار ہو اور اے ابراہیم میں تجھ پر اندوہناک ہوں۔،،،!

اس کے علاوہ امیرالمومنین ع نے نہج البلاغہ میں رسول اللہ کی وفات کو سب سے بڑی مصیبت قرار دیا لیکن اس پر بھی جزع و فزع نہیں کیا کیونکہ رسول ص نے منع فرمایا تھا۔

اور سیدہ نساء اہل الجنہ،فاطمۃ بنت محمد ص کی وفات پر بھی علی ع اشک بار تھے لیکن غیر شرعی کاموں سے پر  ہیز کیا۔
اللہ ہمیں ان بزرگوار دین کے سچے محافظین کی سیرت پر عمل کرنے کی توفیق دے۔والسلام علی من اتبع الھدی

(ایڈمن)
----------------------------------------------------------------------------

حضرت سیّد الشهداء(ع)  نے نیز  اپنے نانا کی سنت کی  پیروی کرتے ہوئے  حضرت زنیب سے فرمایا: 
«يا اُخَيَّة اِنيّ اَقسَمتُ عَلَيكِ فَاَبِرّى قَسَمي لاتَشِقّی عَلَيَّ جَيباً وَ لاتَخمِشي عَلَيَّ وَجهاً و لاتَدعى عَلَيَّ بِالوَيل و الثُّبُور اذا أنَا هَلَكتُ»
 «پیاری بہن!میں تجھے قسم دلاتا ہوں ۔میری قسم کی لاج رکھتے ہوئے اسے پورا کر دکھانا۔میرے مرنے پر اپنا گریباں نہ پھاڑنا اور میری موت پر اپنے چہرے کو نہ خراشنا اور نہ ہی (ہائے)ہلاکت و (ہائے) بربادی کے الفاظ نہ بولنا » (الارشاد، شیخ مفید، ج2، ص97).
اور فرمایا:
 «لَعَنَ اللهُ الخامِشَةَ وَجهَها و الشّاقَّةَ جَيبَها وَ الدّاعِيَةَ بِالوَيلِ و الثُّبور» 
«خدا لعنت کرے اس عورت پر جو   که [ بوقت مصیبت] چهرة   کو نوچے   اور گریبان پھاڑے اور فریاد و فغان(ہائے ہلاکت اور ہائے بربادی کے الفاظ بولے )کرے  »مسکّن الفواد، زین الدین العاملی، ص 108 – مستدرک الوسائل، ج1، ص144

 اور «لَيسَ مِنّا مَن حَلَقَ و لا مَن سَلَقَ و لا مَن خَرَقَ و لا مَن دعا بِالوَيلِ و الثُّبور» 
«از ما نیست آن‌که موی خویش بکند (یا بتراشد) و صدای خود را بلند کند و گریبان بدرَد و فریاد وفغانِ واویلاه و واثبورا  کہے ».مسند الامام زید، ص 175 ـ اس حدیث کو شهید ثانی نے اس طرح بیان کیا: «لَيسَ مِنّا مَن ضَرَبَ الخُدودَ وَ شَقَّ الجُيوب» «وہ ہم میں سے نہیں جو بوقت مصیبت گالوں پر مارے اور گریباں پھاڑے». (مسکّن الفؤاد، ص 108).  

 اور فرمایا «اِنّما نُهِيتُ عَنِ النَّوحِ عَن صَوتَينِ أحمَقَينِ فاجِرَين صَوتٍ عِندَ نغم لَعِبٍ و لَهوٍ و مَزامير شيطانٍ و صَوتٍ عِندَ مُصيبَةٍ خَمشِ وُجوهٍ وَ شَقِّ حُيُوبٍ و رَنَّةِ شيطانٍ»
 « مجھے منع کیا گیا ہے   نوحه خوانی سے ،   دو أحمق فاجر  آوازوں سے جن میں سے ایک  به وقت لَهو و لعب و مزمارهای شیطانی  کی آواز ہے اور دوسری آوازو   به وقت مصیبت   چہرہ یا منہ نوچنا  و گریباں پھاڑنا اور  شیطانی فریاد‌یں کرنا»مستدرك الوسائل  ج1، ص 144 و 145

اور فرمایا :«أربَعٌ فی أمَّتی مِن أمرِ الجاهليّة لايَترُکونَهُنَّ : الفَخرُ فی الأحسابِ و الطَّعنُ فی الأنساب و الإستسقاءُ بِالنّجوم و النِّياحَةُ»
 «چهار چیزیں جو کہ امور جاهلیّت  میں سے ہیں  میری امت ترک نہیں کریں گے: حسب و نسب پر فخر کرنا، طعنه کرنا نسب میں ،اور ستاروں سے بارش طلب کرنا اور نوحه خوانی »المصنّف، ج3، ص 559 ـ وسائل الشیعه، ج12 ص91 و مستدرک الوسائل، ج1 ص 143

پیامبر(ص)  نے بوقت  شهادت   جناب حمزه(ع) جو آپ کے چچا تھے لوگوں کو  نوحه خوانی منع فرمایا»المصنّف، ج،3 ص، 561 .  

اور فرمایا: «صَوتانِ ملعونان يَبغُضُهُمَا اللهُ: اعوالٌ عِندَ مُصيبةٍ و صوتٌ عند نغمةٍ يَعنی النَّوحَ و الغَناءَ» «دو آوازیں  مورد و موجب لعنت ہیں  جنہیں خدا پسند نہیں کرتا، ناله‌ و فریاد کرنا بوقت مصیبت اور   غناکی آواز  کی آواز یعنی نوحه خوانی اور آواز غنا کی آواز»مستدرک الوسائل، ج1، ص 144

 و اسی طرح فرمایاد: «ضَربُ المُسلِمِ بِيَدِهِ عَلی فَخِذِهِ عِندَ المُصيبَةِ إحباطٌ لِأجرِه» «هنگام مصیبت کے وقت کوئی مسلمان اپنے رانِ  پر ہاتھ پیٹے ، اس کا اجر ضائع ہوجاتا ہے»فروع کافی، ج1 ص 224 ـ چنانچہ أمیرالمؤمین نے نیز فرمایا : «مَن ضَرَبَ يَدَهُ عَلی فَخِذِهِ عِندَ مُصيبَتِهِ حَبِطَ أجرُهُ (عَمَلُهُ) = جس نے بوقت مصیبت اپنے رانوں پر ہاتھ مارے ۔تو اس کے اعمال(اجر) ضائع ہوگئے» (نهج البلاغه، حکمت 144)

اسی لئے حضرت باقر(ع) نے فرمایا:
 «أشَدُّ الجَزَعِ الصُّراخُ بِالوَيل وَ العَويل و لَطمُ الوَجه و الصَّدر وَ جَزُّ ا لشَّعرِ عَنِ النَّواصی و مَن أقامَ النّواحَةَ فَقَد تَرَكَ الصَّبرَ و أخَذَ في غَيرِطريقِه» 
« انتہائے جزع ویل عویل کی پکار کرنا ہے،اور منہ پر طمانچہ مارنا ہے،سینہ زنی کرنا اور بال نوچنا اور جس نے نوحہ خوانی و ماتم کیا اس نے صبر کو چھوڑ دیا اور غیر شرعی کام کیا۔».فروع کافی، ج1، ص 222 

والسلام علی من اتبع الھدی
     از خادم شریعت مطھرہ  آیت الله سید ابوالفضل ابن الرضا برقعی قمی